April 18, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/shulikovteam.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

غزہ کے بچوں میں عام مرض ہے۔ سیودی چلڈرن کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے آدھے بچوں کےذہن میں خودکشی جبکہ ۵؍ میں سےایک کے ذہن میں جسمانی نقصان کے خیالات ابھررہے ہیں۔ کیلیفورنیا کے ایک سائیکولوجسٹ ایمان جاراج اللہ نے بتایا کہ جنگ کے سبب غزہ کے بچوں نے ناقابل تصور صدمات جھیلے ہیں۔

Children during the war in Gaza. Image: X

غزہ میں جنگ کے دوران بچے۔ تصویر: ایکس

امریکہ کا غزہ میں عبوری بندرگاہ تعمیر کرنے کا منصوبہ، شدید تنقیدیں

گوگل: فلسطین کی حمایت میں احتجاج کرنے کیلئے انجینئر معطل

غزہ میں ہر روز ۶۳؍ خواتین شہید ہورہی ہیں

طویل جنگی حالات میں رہنے کے سبب غزہ کے بچےحد سے زیادہ تکلیف دہ جذبات سے گزر رہے ہیں جس سے ان کی ذہنی حالت پر گہرا اثر ہو رہا ہے۔ نسلوں سے غزہ کے بچے فضائی حملوں کی اور سائرن کی آوازوںاور بے گھرہونے کے درد کے ساتھ پرورش پارہے ہیں۔ نہ ختم ہونے والے ان خوفناک مناظر کی تکلیف مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ غزہ کے بچوں میں جنگ کے سبب ہونے والے لاتعداد دماغی چیلنجز اب خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ جنگ کے سبب انہیں جن دماغی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان میں ڈپریشن اور انزائٹی عام ہیں کیونکہ انہیں کم عمری میں جتنے تجربات کا سامنا کرناپڑا ہے وہ ان کیلئے ناقابل قبول ہیں۔
اس ضمن میں ایک انٹرویو میں ایمان جاراج اللہ، جوغزہ میں پیدا ہوئے ہیں اور وہی پرورش پائی ہے اور ابھی کیلیفورنیا میں بطور سائیکولوسٹ خدمات انجام دے رہے ہیں، نے بتایا کہ فلسطینی بچوں کو بارہا صدمات سے گزرنا پڑتاہے۔بہت سے لوگ جنگی علاقوں میں بچوں کے صدمے کا حوالہ دیتے ہیں، جن میں خاص طورپر غزہ شامل ہے، اور وہ پی ٹی ایس ڈی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ تمام دماغی صحت کے ماہرین اسے پی ٹی ایس ڈی قرار دیتے ہوئے احتیاط برتیں کیونکہ یہ وہ نہیں ہے۔یہ بچے جن دماغی صدمات کا سامنا کر رہے ہیں میں انہیں کامپلیکس کنٹی نیوس ٹرومیٹک اسٹریس (پیچیدہ مسلسل تکلیف دہ کشیدگی)کا نام دوں گا۔بار بار اور طویل ہونے والے صدمات کے نتائج واحد ہونے والے حادثے کے صدمے کے نتائج سے مختلف ہوتے ہیں۔۷۵؍ سال سے زائد عرصےسے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوںکی وجہ سے غزہ کے فلسطینیوں پر مظالم کی مکمل تاریخ ہے۔تاہم، اس مرتبہ فلسطینی طویل پیمانے پر نقل مکانی، جنگ اور مصائب کا سامناکررہے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے غزہ کے بچوں نے ناقابل تصور صدمات جھیلے ہیں، انہوں نے بے گھر، اپنے پیاروں کو کھونے کے غم کو برداشت کیا ہے اور وہ اب بھی خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ تجربات نہ صرف یہ کہ ان کی حالیہ زندگی پر اثر انداز ہوں گے بلکہ ان کے مستقبل کی زندگی کو بھی بڑے پیمانے پر متاثر کریں گے۔مصائب، بازگشت، بے خوانی اور جذباتی بے حسی ان کے صدمات کےپریشان کن مظہر ہیںجو نہ صرف ان کی عام زندگی بلکہ ان کی عام افزائش کو بھی بڑے پیمانےپر متاثرکر رہے ہیں۔ 

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں انکشاف
ڈبلیو ایچ او کی ۲۰۲۲ء کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی آبادی میں سے ہر ۵؍ افراد میں سے ایک کو کئی دماغی بیماریوں کا سامنا ہے جن میں ڈپریشن، انزائٹی، پی ٹی ایس ڈی، بائیوپولار ڈسورڈر اور سیزوفرینیا شامل ہیں۔
امیر، جس کی عمر ۱۴؍ سال ہے ، نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کس طرح مئی ۲۰۲۱ء میں غزہ میں تشدد کے بڑھنے کے بعد اسے خوف کا سامناکرنا پڑتا تھا۔ عامر نے بتایا کہ رات کو میں سو نہیں پاتا تھا کیونکہ مجھے خوفناک خواب آتے تھے۔ میں واقعی خوفزدہ تھا کہ وہ دوبارہ ہمارے گھریا ہمارے پڑوسیوں کے گھروں پر بمباری کریں گے۔میں گم صم رہتا تھا۔ میں نے اپنے والد کو اپنے ڈراؤنے خوابوں کے بارے میں بتایا تو انہوں نے مجھے تسلی دی کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔اس کے بعد میں نے سونے کی کوشش کی۔

بچے غذائی بحران کے خلاف احتجاج کے دوران۔ تصویر: ایکس
غزہ کے آدھے بچوں کے ذہن میں خودکشی کے خیالات ابھررہے ہیں: سیو دی چلڈرن
سیو دی چلڈرن کی حالیہ ریسرچ کے مطابق بچوں کی درست ذہنی نشوونما، نوجوانوں اور دیکھ بھال کرنے والوں کی دماغی حالت ۴؍ سال قبل پچھلی رپورٹ کے مقابلے میں خراب ہوئی ہےجن میں بچوں کی ،جو جذباتی اسٹریس کا سامنا کر رہے ہیں، کی تعداد یمں ۵۵؍ فیصد سے ۸۰؍ فیصدکا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خوفزدہ بچوں کی تعداد ۲۰۱۸ء میں ۵۰؍ فیصد تھی جو اب بڑھ کر ۸۴؍ فیصد ہو گئی ہے،گھبراہٹ کا شکار بچوں کی تعداد ۵۵؍ فیصد تھی جو بڑھ کر ۸۰؍فیصد ہو گئی ہے، اداسی اور ڈپریشن کا شکار بچوں کی تعداد بھی ۶۲؍ فیصد کے مقابلے میں ۷۷؍ فیصد ہو گئی ہے۔اس رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ غزہ کے آدھے سے زائد بچوںنے خودکشی جبکہ ۵؍ میں سے تین بچوںنے خود کو جانی نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچا ہے۔

ہم اس تعلق سے بھی خوفزدہ ہیں کہ اگلے لمحے کیا ہوگا: سیودی چلڈرن کے رکن یوسف 
یوسف، جو تین بچوں کے والد اور سیو دی چلڈرن کے ممبر بھی ہیںنے، بتایا کہ یہاں نقصان اور اپنوں کو کھونے کا غم بہت زیادہ ہے۔ہم اس بارے میں بھی خوفزدہ ہے کہ اگلے کچھ گھنٹوں میں کیا ہوگا، کل کا دن ہمارے لئے کیسا ہوگا۔ہر جگہ موت ہے۔ روزانہ میرے بچے میری آنکھوں میں دیکھتے ہیں۔ ان کے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں جس کے جواب وہ تلاش کرتے ہیں۔یہ لمحات ہم پر بہت بھاری ہیں۔خاص طورپر بچوں کیلئے یہ حالات بہت خطرناک ہیں۔ہم اپنے بچوںکی حفاظت کیلئے خود کو متحد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ غزہ کے بچوں کی ذہنی حالت خاموش تباہی ہے، جو ان کے ذہن روح کیلئے تباہ کن ہے۔ناقابل بیان خوف کو برداشت کرنے کے صدمے سے بھوک اور خوف کا درد، جنگ کے سبب ہونے والے نقصانات نہ صرف جسمانی اذیت جبکہ ذہنی اذیت کا بھی باعث بنتے ہیں جنہیں ختم ہونے کی ضرورت ہے۔یہ تمام چیزیں تبدیلی اور ایک بہترین مستقبل چاہتی ہیں۔

اسرائیلی حملے کے بعد غزہ میں تباہی کے مناظر۔ تصویر: پی ٹی آئی 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *