April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/shulikovteam.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
۱

سعودی عرب میں سب سے اہم سکیورٹی محاذ آرائی کو 19 سال ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ 19 سال قبل قصیم کے مغرب میں الراس شہر میں پیش آیا جہاں رہائشی عمارت میں چھپے دہشت گردوں کے ایک بڑے گروہ کو ختم کرنے کا آپریشن شروع کیا گیا۔

سال 2005ء اور 2024ء کے درمیان اس دیرینہ عمل کے لیے مشہور پاسپورٹ ڈسٹرکٹ نے بڑی ترقی دیکھی اور الراس کے سب سے ممتاز رہائشی محلوں میں سے ایک بن گیا۔

تقریباً چاردن تک جاری رہنے والے اس بڑے آپریشن کی شاہد عمارت بحال ہونے کے بعد بھی وہیں کھڑی ہے، لیکن یہ اس عرصے کے دوران انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کی داستان رقم بیان کرتی ہے۔

سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ میں تباہ ہونے والی عمارت کی بحالی کے بعد کی تصویر۔

چھ رہائشیوں کو اب بھی یاد ہے کہ کس طرح اس جگہ کا تین دن تک طویل محاصرہ ہوا اور سعودی سکیورٹی فورسز نے وہاں کے رہائشیوں کو خطرے سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ اس جگہ کے قریب ایک پرائمری اسکول کو خالی کرنے اور اس جگہ کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا۔

شدید تصادم

مارچ کے آخر اور اپریل 2005ء کے آغاز میں ہونے والی تصادم کو سکیورٹی اہلکاروں اور انتہا پسندوں کے درمیان سب سے زیادہ خوفناک تصادم سمجھا جاتا تھا۔ اس عمارت میں 20 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

جس گھر میں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے اس کے ساتھ سکیورٹی ضروریات کے مطابق کارروائی کی گئی کیونکہ اس وقت گھر کا اگلا حصہ گولیوں کی زد میں تھا۔ اس گھر کی تصویر خبر رساں اداروں پر نشر ہونے والی مشہور ترین تصاویر میں سے ایک بن گئی تھی اور دنیا بھر میں ٹیلی ویژن اسکرینوں پر نشر کی گئی۔

محلے کے لوگوں کو آج بھی وہ تصادم کچھ فخر کے ساتھ یاد ہے، کیونکہ سکیورٹی اہلکار مکینوں کے ساتھ ساتھ قریبی اسکول کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہے۔ اس میں کسی سکیورٹی اہلکاروں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جب کہ سکیورٹی اہلکاروں نے القاعدہ کے سینیر رہنماؤں سمیت 14 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

وہ گھر جس نے 2005 میں ہونے والی کارروائیوں کا مشاہدہ کیا تھا وہ ابھی تک کھڑا ہے اور ان واقعات اور محاذ آرائیوں کا گواہ ہے جنہوں نے اس عرصے کے دوران سعودی عرب کو مسلسل تصادم میں آگ کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب سعودی عرب میں القاعدہ کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *